پاکستان عدل پارٹی — قومی منشور 2026
"امن، انصاف، ترقی اور مساوات سب کے لیے"
35 جامع اور انقلابی پالیسی شعبہ جات اور دس سالہ قومی ترقیاتی منصوبہ (پاکستان 2036)
منشور کے اہم تنظیمی شعبہ جات
قومی نظریہ اور حکمرانی
انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام، بااختیار بلدیاتی نظام اور قومی زبان کا نفاذ۔
عدل اور قانون کی بالادستی
کیس کیلنڈر سسٹم، ای کورٹس، غیر سیاسی پولیسنگ اور بلا امتیاز کڑا احتساب۔
تعلیم اور انسانی ترقی
یکساں نصاب، مادری زبان کا احترام اور اسکل پلس ایجوکیشن پلس انڈسٹری ماڈل۔
معیشت، صنعت اور زراعت
درآمدی معیشت کی جگہ پیداواری معیشت، صنعتی و زرعی انقلاب اور ٹیکس اصلاحات۔
تجارت، بندرگاہیں اور مواصلات
کراچی اور گوادر کا ساحلی معاشی کوریڈور اور ٹیکنالوجی و سی پیک 2.0 کا اگلا مرحلہ۔
خارجہ پالیسی، دفاع اور سلامتی
پاکستان فرسٹ متوازن خارجہ پالیسی، مسئلہ کشمیر کا سفارتی حل اور جدید دفاعی صنعت۔
عوامی خدمات، صحت اور ماحولیات
ون سٹیزن ڈیجیٹل گورنمنٹ آئی ڈی، ضلعی صحت پروگرام اور قومی واٹر سیکیورٹی پلان۔
نوجوان، خواتین، اقلیتیں اور اصلاحات
نوجوانوں کو معاشی اثاثہ بنانا، خواتین کی شمولیت، اقلیتوں کو تحفظ اور موروثی سیاست کا خاتمہ۔
قومی تبدیلی کا منصوبہ 2036
قومی اتحاد، انصاف، پیداوار، کنیکٹیویٹی اور سلامتی پر مشتمل دس سالہ انقلابی منصوبہ۔
35 بنیادی پالیسی شعبہ جات اور انقلابی اصلاحات
آئینی، معاشی، عدالتی اور سماجی مسائل کا سائنسی اور جامع حل۔ ہر پالیسی پاکستان کے روشن اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہے۔
پاکستان عدل پارٹی کا قومی نظریہ
National Vision
پاکستان کا بحران حکومتوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی نظم، سیاسی ڈھانچے، عدالتی تاخیر، اور اشرافیائی سیاست کا مجموعہ ہے۔ ایک قوم، ایک ریاست، ایک آئین، ایک قومی شناخت اور متعدد انتظامی اکائیاں۔
ملک بھر میں نئے صوبوں کا قیام
Establishment of New Provinces Across the Country
کسی ایک صوبے کو نشانہ بنانے کے بجائے پورے پاکستان کے لیے ایک غیر جانبدار قومی کمیشن برائے انتظامی تنظیمِ نو قائم کیا جائے گا۔
مقامی حکومت: اقتدار عوام کی دہلیز تک
Local Government: Power at the People's Doorstep
صرف نئے صوبے بنانے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر صوبے میں صوبہ، ڈویژن، ضلع، تحصیل اور مقامی حکومت کا مؤثر انتظامی نظام قائم کیا جائے گا۔
اردو کا عملی نفاذ
Practical Implementation of Urdu
آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت 'پانچ سالہ اردو نفاذ پروگرام' کا آغاز، وفاقی وزارتوں، پارلیمنٹ اور قانونی خط و کتابت کا قومی زبان میں تبادلہ۔
یکساں قومی نظام تعلیم
Uniform National Education System
تعلیم میں طبقاتی تقسیم کا خاتمہ؛ 'ایک قوم، ایک بنیادی قومی نصاب' کا نفاذ تاکہ غریب اور امیر کے بچوں کو برابر تعلیمی مواقع میسر آئیں۔
مادری زبان
Mother Tongue
ابتدائی سطح پر بچے کو مادری/مقامی زبان میں سہولت دی جا سکے گی، مگر قومی تعلیمی اور سرکاری نظام کا مرکزی رابطہ اردو ہو گا۔
تعلیم اور روزگار کو جوڑنا
Connecting Education with Employment
صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کے بجائے Skill + Education + Industry ماڈل نافذ ہوگا؛ ہر ضلع میں ٹیکنیکل و ووکیشنل سینٹرز کا قیام۔
عدالتی نظام: کیس کیلنڈر سسٹم
Judicial System: Case Calendar System
ہر مقدمے کے آغاز پر عدالت ایک Case Calendar مقرر کرے گی جس میں ابتدائی سماعت، جواب داخل کرنے، شہادت اور حتمی فیصلے کی مدت طے ہوگی۔
عدالتوں میں اصلاحات
Judicial Reforms
ای کورٹ سسٹم، ویڈیو لنک سماعت، ڈیجیٹل کیس فائل، اور AI-assisted legal research کا نفاذ تاکہ انصاف سستا اور فوری ہو۔
پولیس: مقامی پولیس، قومی معیار
Police: Local, Professional and Accountable
پولیس کو سیاسی اثر سے آزاد کر کے ضلعی سطح پر مقامی کمیونٹی سروس کا ادارہ بنایا جائے گا جس کا اصول ہے: Police should be local, professional and accountable.
احتساب: قانون سب کیلئے
Accountability: No One Above the Law
صدر، وزیر اعظم، جج یا جنرل—کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہو گا۔ اصول: No one above the law. احتساب سیاسی انتقام نہیں بلکہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
معیشت: درآمد نہیں، پیداوار
Economy: From Consumption to Production
اقتصادی پالیسی کا مرکزی اصول: Consumption Economy to Production Economy. پاکستان کو قرض لے کر خرچ کرنے کی بجائے برآمدات، صنعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی معیشت بنایا جائے گا۔
قومی صنعتی انقلاب
National Industrial Revolution
ہر نئے صوبے میں کم از کم ایک بڑا Industrial Zone اور Special Economic Zone کا قیام؛ ٹیکسٹائل، اسٹیل، انجینئرنگ، سولر، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت میں مراعات۔
زرعی انقلاب
Agricultural Revolution
زراعت کو روایتی پیداوار سے جدید Agri-Business Economy میں تبدیل کیا جائے گا۔ جدید آبپاشی، کولڈ اسٹوریج، زرعی انشورنس، اور کسان مارکیٹس کا قیام۔
توانائی کی خود مختاری
Energy Self-Sufficiency
سولر، ونڈ، ہائیڈرو، نیوکلیئر، گیس اور جدید گرڈ کے امتزاج سے توانائی کا قومی منصوبہ؛ بجلی چوری اور گردشی قرضوں کے خلاف سخت کارروائی۔
ٹیکس انقلاب
Tax Revolution
اصول: کم شرح، وسیع بنیاد، مکمل ڈیجیٹل نظام۔ ٹیکس نظام کو رئیل اسٹیٹ، ریٹیل اور غیر دستاویزی معیشت تک وسعت؛ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف۔
کراچی — خطہ — گوادر قومی معاشی محور
Karachi–Region–Gwadar National Economic Axis
National Coastal Economic Corridor کے تحت کراچی سے گوادر تک ساحلی محور کو جدید معاشی زون میں تبدیل کیا جائے گا۔
کراچی سے عالمی تجارتی روٹس تک
From Karachi to Global Trade Routes
پاکستان کے ساحلی کوریڈور کو وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے تجارتی راستوں سے جوڑا جائے گا تاکہ پاکستان Regional Trade Gateway بن سکے۔
گوادر اور CPEC کا نیا مرحلہ
Gwadar and a New Phase of CPEC
Technology & CPEC 2.0 کے تحت صنعتی منتقلی، برآمدات اور ٹیکنالوجی پر توجہ؛ متوازن معاشی سفارت کاری اور نئی تجارتی شراکت داریاں۔
خارجہ پالیسی: امن، بقا اور خودمختاری
Foreign Policy: Peace, Coexistence and Sovereignty
اصول: Peace — Coexistence — Sovereignty. 'پاکستان فرسٹ' (Pakistan First) اور متوازن خارجہ پالیسی اپنائی جائے گی۔
کشمیر پالیسی
Kashmir Policy
کشمیر کو محض دوطرفہ تنازع کے بجائے عالمی سطح پر Internationalisation through diplomacy, law and multilateral institutions کے تحت اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی فورمز پر اٹھایا جائے گا۔
دفاع: مضبوط پاکستان، محفوظ پاکستان
Defence: Strong Pakistan, Secure Pakistan
اصول: Peace through Strength. پاکستان کی دفاعی قوت کو سائبر، ڈرون، اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس کر کے Defence Technology Producer and Exporter بنایا جائے گا۔
داخلی سلامتی
Internal Security
دہشت گردی کے خلاف پولیس، انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کا مربوط نظام؛ سرحدی علاقوں میں تعلیم اور روزگار کی فراہمی۔
بیوروکریسی میں اصلاحات
Bureaucratic Reforms
سرکاری افسر حاکم نہیں خادم ہوگا۔ محکموں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور One Citizen — One Digital Government ID کے ذریعے خدمات آن لائن فراہم کی جائیں گی۔
صحت کا قومی پروگرام
National Health Program
ضلعی سطح پر جدید ہسپتال، ایمرجنسی سسٹم اور ٹیلی میڈیسن کو قومی ترجیح بنایا جائے گا۔ صحت کی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہوں گی۔
پانی اور ماحولیاتی تحفظ
Water and Environmental Protection
قومی Water Security Plan کے تحت نئے ذخائر، بارش کا پانی محفوظ کرنے، نہری اصلاحات اور بڑے شہروں کے لیے Urban Water Plans کی تشکیل۔
نوجوان پاکستان
Young Pakistan
نوجوان آبادی کو National Economic Asset بنایا جائے گا۔ ان کے لیے ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل اسکلز، فری لانسنگ اور انٹرپرینیورشپ کے مواقع۔
خواتین کی معاشی شمولیت
Women's Economic Inclusion
خواتین کو قومی معیشت کا فعال حصہ بنانے کے لیے محفوظ ماحول، مساوی مواقع، اور ووکیشنل انٹرپرینیورشپ کی فراہمی۔
اقلیتوں کے حقوق
Rights of Minorities
اصول: Equal Citizenship under the Constitution. غیر مسلم پاکستانیوں کے آئینی اور مذہبی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔
سیاسی اصلاحات
Political Reforms
موروثی سیاست اور برادری ازم کے خاتمے کے لیے انتخابی اصلاحات؛ سیاسی جماعتوں میں شفاف انتخابات اور مالی حسابات کو قانونی معیار بنایا جائے گا۔
میڈیا اور آزادی اظہار
Media and Freedom of Expression
ریاستی اداروں اور حکومت پر تنقید کو جرم نہیں بنایا جائے گا۔ جعلی خبروں اور سائبر جعل سازی کے خلاف قانون نافذ ہو گا، مگر اختلاف رائے دبانے کے لیے نہیں۔
قومی احتساب کا نیا اصول
New Principle of National Accountability
ریاستی وسائل کی چوری قومی جرم ہوگی۔ ڈیجیٹل فرانزک اور اثاثوں کے ریکارڈ کو مربوط کر کے احتساب کیا جائے گا جس کا مقصد Recovery + Prevention + Accountability ہوگا۔
ریاستی اخراجات میں کفایت
Fiscal Discipline / Economy in State Expenditure
غیر ضروری سرکاری اخراجات اور مراعات میں کمی کی جائے گی۔ ریاستی پیسہ پہلے تعلیم، صحت، دفاع، اور روزگار پر خرچ ہو گا۔
پاکستان کی قومی شناخت
Pakistan's National Identity
علاقائی شناختوں کے احترام کے ساتھ ساتھ ریاستی وفاداری اور سیاسی قومیت کی آخری شناخت صرف 'پاکستانی' ہو گی: ریاست ایک، آئین ایک اور قومی وفاداری ایک۔
دس سالہ قومی ترقیاتی منصوبہ — پاکستان 2036
Pakistan 2036 National Transformation Plan
دس سالہ جامع حکمت عملی جس کے 5 بنیادی ستون ہیں: National Unity، Justice، Production، Connectivity، اور Security۔
پاکستان 2036 قومی تبدیلی / ترقیاتی منصوبہ
دس سالہ جامع حکمت عملی جس کے 5 بنیادی اسٹریٹجک ستون ہیں — پاکستان عدل پارٹی کا انتخابی و ریاستی منشور
قومی اتحاد: قومی شناخت اور انتظامی اصلاحات
لسانی و نسلی تعصبات سے پاک، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام۔ ایک قوم، ایک آئین، ایک ریاست اور ایک قومی وفاداری۔
ماخوذ از سرکاری قومی منشور 2026: دس سالہ قومی ترقیاتی منصوبہ — پاکستان 2036
"عدل سے ریاست — اتحاد سے قوم — پیداوار سے خوشحالی — قوت سے امن"
ریاست کسی خاندان، جماعت یا طبقے کی جاگیر نہیں — پاکستان کے ہر شہری کی امانت ہے۔
